Advertisement

Find Us On FB

Tags

urdu news
Latest News
Malakand News
bbc News
peshawar news
Dharna news
imran khan news
geo news
ary news
swat news

Advertisement

News Detail

Publisher Name : Gohar ali Gohar (Comments) Date : 2017-01-18

بٹ خیلہ میں پشتو کی چار نئی کتابوں کی تقریب رونمائی

بٹ خیلہ ؛ گوہر علی گوہر سے ؛پشتو اکیڈمی پشاور کے ڈائریکٹر ڈاکٹر نصر اللہ وزیر نے کہا ہے کہ زبان و ادب کی ترویج و ترقی کے لئے تنقید کی زیادہ ضرورت ہے ، اگر تنقید نگار وں نے تخلیق کلاروں کو بے لگام چھوڑ دیا تو معلوم نہیں کہ وہ قوم کو کس منزل تک پہنچا دیںگے مگرکتاب کی تقریب رونمائی کے موقع پر مصنف کے حوصلہ افزائی کی خاطر تنقید سے گریز کرنا چاہیئے یہ موقع مصنف پر نکتہ چینی کی بجائے انہیں مبارکباد اور حوصلہ دینے کے لئے ہوتا ہے ملاکنڈ ڈویژن ادبی لحاظ سے انتہائی زرخیز اور قابل ستائش ہے ، انہوںنے کہا کہ پشاور یونیورسٹی سے حال ہی میں پشتو ماسٹر میں ڈگری حاصل کرنے والے طالب کا تعلق ملاکنڈ سے ہے جبکہ اس سے پہلے بھی مادری زبان میں گولڈ مڈل حاصل کرنے والوں میں ملاکنڈ ڈویژن کے طلبہ و طالبات کی اکثریت ہے ’’زبان و ادب کی ترویج و ترقی کے لئے اس کو سرکاری زبان کا درجہ ملنے کے لئے جدوجہد کرنا چاہیئے مادری زبان کی اہمیت سے اگاہ اور اس سے لگاؤ رکھنے والے سیاسی و سماجی ورکرز اور قائدین اس طرف خصوصی وجہ دے کر پشتو اخبارات ، رسائل کو خریدنے اور علاقائی لائبریریز میں پشتو کتابیں خصوصی طور پر رکھنے پرتوجہ دیں ‘‘ ان خیالات کا اظہار انہوںنے مقامی ادبی تنظیم’’ہمیشہ پشتو ادبی ٹولنہ اماندرہ ‘‘ کی طرف سے چار کتابوں کی اشاعت اور اس کی مشترکہ رونمائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا جن میں یونیورسٹی اف ملاکنڈ کے پشتو ڈیپارٹمنٹ کے چئیرمین ڈاکٹر علی خیل دریاب کی دو کتابیں نعتیہ مجموعہ ’’لاہوتی زمزمے ‘‘ اور شعری مجموعہ ’’ بھیر د جمال ‘‘ سمیت سعودی عرب میں مقیم بٹ خیلہ کے رہائشی خیام یوسفزئی کی دو شعری مجموعے ’’ خوبونہ پہ ورغوی ‘‘ اور ’’جام ،جنون او جانان ‘‘ شامل تھے ۔ تقریب کی صدارت پروفیسر محمد اسلام ارمانی نے کی جبکہ مہمانوں میں ڈاکٹر زبیر حسرت، حاجی نوشیروان عادل، ڈاکٹر عرفان خٹک ، سید حسن خان ایڈوکیٹ اور تحصیل کونسلر الیاس خان وغیرہ شامل تھے ۔ ابتدائ میں صدر محفل اور مہمان خصوصی سمیت مختلف ادبی شخصیات نے چاروں کتابوںکی رونمائی کا الگ الگ رسم ادا کیا تقریب میں صوبہ کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے شعرائ و ادبائ پروفیسر ڈاکٹر زبیر حسرت، زرنوش شہاب، ڈاکٹر عرفان خٹک، ڈاکٹر مظہر احمد، ڈاکٹر نورالبصر امن، پروفیسر عطا محمد عطا، زریاب یوسفزئے اور شہباز محمد نے چاروں کتابوں کے حوالے سے تحریر کردہ مقالے پیش کرکے مصنفین کی کوششوں کو سراہا اور ان کی تخلیقات کو پشتو ادب کے لئے بہترین نمونے قرار دئیے ۔ پروفیسر ہمایون ہما ، حسن خان ناشاد، ظفر علی ناز، رضوان اللہ شمال ، حٔار یوسفزئے ، گوہر علی گوہر ، افتخار فاروقی ، صابر حجازی اور عثمان خیالی نے چاروں کتابوں کے حوالے سے منظوم کلام پیش کرکے شعرائ کی تخلیقات کی تعریف کی ۔ نظامت کے فرائض میاں فضل رحمان شاہد نے انجام دئیے جبکہ تقریب میں صوبہ کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے شعرائ ادبائ اور ادبی ذوق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی ۔ پروفیسرمحمد اسلام ارمانی نے صدارتی خطبہ میں مصنفین کو مبارکباد دی اور کتابوں کی رونمائی کو نئی شعرائ کے لئے خوش ائند قرار دیا ۔دو کتابوں کے مصنف ڈاکٹر علی خیل دریاب نے مقالہ نگاروں اور نظم نگاروں کا شکریہ ادا کیا کہ انہوںنے ان کی حوصلہ افزائی کی اور اس امید کا اظہار کیا کہ وہ ائندہ بھی اس طرح کے کوشش کو جاری رکھیںگے ۔ انہوںنے کہا کہ ہمیشہ ادبی ٹولنہ نے اس سے پہلے بھی کئی کتابوں کو شائع کیا ہے مگر شائع شدہ کتابوں کی رونمائی کی تقریبات کو منعقد نہیں کیا مگر ائندہ وہ کتابوں کی اشاعت کے ساتھ ان کی رونمائی کا بھی خصوصی انتظام کریں گے ۔